136

سینیٹ کمیٹی کو مرغی کےگوشت کے معیار پر تشویش

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے مرغی کے گوشت، پانی اور دودھ کے معیار پر تشویش کا اظہار کردیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس کے دوران پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ پولٹری فارمز میں مرغیوں کا وزن بڑھانے کے لیے انجیکشنز اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ مرغیوں کے لیے فیڈ بنانے والی فیکٹریاں بغیر لائسنس کے فیڈ بنانے کا کام کر رہی ہیں جبکہ صوبوں کی جانب سے لائسنس کی چیکنگ کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اجازت کے بغیر پولٹری فارموں کے لیے لائسنس جاری کر رہی ہے، ‘پولٹری فارمز کا معاملہ سیاسی ہے’۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ آن واٹر ریسورسز کے ایک عہدیدار نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ ملک کا پانی پینے کے قابل ہی نہیں، سندھ سے حاصل کیے گئے 84 فیصد پانی کے نمونوں سے ثابت ہوا کہ وہ پانی بھی پینے کے قابل نہیں۔

مزید بتایا گیا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی میں بھی بیکٹیریا اور نمک کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وائیٹنر دودھ نہیں ہے اور نہ ہی وائیٹنر بنانے والوں کی جانب سے کوئی لائسنس حاصل کیا گیا ہے۔

کمیٹی ارکان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اپنے بچوں کو کیا کھلائیں، نہ پانی پینے کے قابل ہے اور نہ دودھ، گھی اور مرغی کا گوشت، ہر چیز میں ملاوٹ ہے، ہم اپنے بچوں کو زہر کھلا رہے ہیں’۔

سینیٹ کمیٹی نے پانی کے معاملے پر چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو طلب کرتے ہوئے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے پولٹری فارمز اور دودھ کے معیار سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں