238

خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملے کی تفتیش میں نیا موڑ

کراچی(آن لائن)خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کی تفتیش میں نیا موڑآگیا،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لئے گئے ملزم کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ انصارالشریعہ پاکستان کا چیف ہے۔

ملزم این ای ڈی یونیورسٹی کا ملازم ہے اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فزکس سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرچکا ہے، انصارالشریعہ پاکستان کے چیف شہریار عبداللہ ہاشمی سمیت 6 ملزمان کو سیکیورٹی فورسز نے پیر کے روز کنیز فاطمہ سوسائٹی میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ شہریار عبداللہ این ای ڈی یونیورسٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا ملازم تھا اور وہ کمپیوٹر کا ماہر ہے۔مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔جبکہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خواجہ اظہار الحسن پر حملے اور متعدد دہشت گردی کی وارداتوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ملزمان ملوث ہیں۔

2 ستمبر کو خواجہ اظہار پر حملے می کے دوران پولیس کی جوابی فائرنگ سے مارا جانے والا دہشت گرد حسان اسرار بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کا لیکچرار اور پی ایچ ڈی ہولڈر تھا۔اس کے علاوہ خواجہ اظہار پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی بھی کراچی یونیورسٹی میں شعبہ اپلائڈ فزکس کا طالبعلم ہے جو اب تک مفرور ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ صفورہ میں ملوث مجرمان سعد عزیز اور علی رحمان عرف ٹونا بھی انجینئرنگ یونی ورسٹی کے طالب علم تھے جوکہ خود بھی تعلیم یافتہ اور اعلٰی تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔جبکہ حال ہی میں جامعہ کراچی نے دہشت گردی کی وارداتوں کو دیکھتے ہوئے طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں