183

پاکستان کا 52 واں یوم دفاع

اسلام آباد: (06 ستمبر 2017) دنیا کی جنگی تاریخ کا اہم ترین دن 6 ستمبر 1965 جب پاک فوج اور پاکستانی قوم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا کر تاریخ رقم کی۔ فضا کی وسعت اور سمندر کی گہرائی آج بھی دشمن کی شکست کی کہانی سناتی ہے۔ 1965 کی جنگ کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قوم آج یوم دفاع ملی جوش و جذبے سے منا رہی ہے۔

چھ ستمبر اُنیس سو پینسٹھ پاک بھارت معرکہ، جسے دنیا کی جنگی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ فضا ہو یا پانی، خشک زمین ہو یا پہاڑ پاک فوج نے جرآت اور بہادری کی وہ داستانیں رقم کیں جنہیں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والے دشمن کے ناپاک ارادوں کو پاکستان کی مسلح افواج نے خاک میں ملا دیا۔ اپنے سے کئی گنا بڑی اور اسلحے سے لیس فوج کا مقابلہ میجر راجہ عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے کیا اور دشمن کے ناپاک قدموں کو پاک سر زمین پر نہ پڑنے دیا۔

چھ ستمبر کی صبح پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم سے خطاب میں دشمن پر واضح کر دیا کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ اُس نے کس قوم کو للکارا ہے۔

پاکستانی عوام کا جذبہ قربانی بھی ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا دشمن کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ آئندہ کوئی پاک سر زمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت بھی نہ کرے۔ یہی وجہ تھی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ میدان میں اتری۔

پاکستان کے گلو کاروں نے نغموں کے ذریعے پاک فوج اور قوم کے جذبہ قربانی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نورجہاں، شوکت علی اور دیگر کے گائے ہوئے نغموں کو کون بھول سکتا ہے۔ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔

پوری قوم دعا گو ہے کہ اللہ پاک سر زمین کو دشمن کے ناپاک ارادوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور یہ وطن ہمیشہ شاد باد رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں