148

بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنایا دیا گیا

طویل انتظار ختم، نو سال بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنایا دیا گیا

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلہ سنا دیا ہے جس میں 5 ملزمان کو بری، 2 کو سزا جب کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اشتہاری قرار ددیتے ہوئے ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے میں پانچ گرفتار ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا ہے جن میں رفاقت ، حسنین ، رشید احمد ، شیر زمان اور اعتزاز شاہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی 300 سے زائد سماعتیں ہوئیں ہوئیں جبکہ دوران سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے6 ججز تبدیل ہوئے۔

استغاثہ کے141 میں سے67 گواہوں کے بیانات رکارڈ کیے گئے۔ دیگر گواہوں کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کر دیا گیا۔کیس میں سات چالان جمع کرائے گئے، 29 فروری 2008 میں کیس کا ٹرائل شروع ہوا جبکہ 20اگست 2013 کوکیس کا ازسر نو ٹرائل شروع ہوا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد ہونے والے ایک بم دھماکے میں شہید ہوگئی تھیں۔

سزا پانے والے دونوں اعلیٰ پولیس افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے قافلے کے لیے سکیورٹی پلان میں رد و بدل کیا تھا اور واقعے کے فوراً بعد جائے وقوع کو دھلوا دیا تھا، جس سے وکیلِ استغاثہ کے مطابق اس مقدمے کے کئی اہم شواہد حاصل نہیں ہو سکے تھے۔دونوں افسران اس وقت عدالت کے حکم پر ضمانت پر رہا ہیں۔

استغاثہ کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ مختلف اداروں کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سازش کے تحت بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا جس میں ان ملزمان کو استعمال کیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف بھی متعدد بار بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سےخود پر لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو 2007ء میں ان کی ملک واپسی کے بعد اس وقت کی حکومت کی طرف سے مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی تھی لیکن جب وہ جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے اپنی گاڑی سے باہر نکلیں تو بم دھماکے کا نشانہ بن گئیں۔

بے نظیر بھٹو دوبار پاکستان کے وزیر اعظم رہیں اور ان کے قتل کے بعد ان کی جماعت پیپلز پارٹی پانچ سال تک برسرِ اقتدار اور ان کے شوہر آصف علی زرداری ملک کے صدر رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں