33

جمہوریت اور عوام کا مقدمہ لڑ رہا ہوں، نواز شریف

لاہور: پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے نااہلی فیصلے کے بعد سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کاکہنا ہے کہ وہ پاکستان، جمہوریت اور عوام کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔

لاہور میں ایوان اقبال میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قانون دانوں کے بڑے اجتماع میں آکر خوشی ہوئی، تحریک پاکستان میں وکلا نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک، انصاف کی حکمرانی کے لیے تھی، انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے وکلا پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ عوام پاناما کی داستان سے پوری طرح واقف ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاناما پیپرز کے سیکڑوں ناموں میں میرا نام نہیں اور جب سپریم کورٹ میں پٹیشنز دائر کی گئيں تھی تو عدالت نے انہیں بے معنی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک فیصلہ 20 اپریل اور دوسرا 28 جولائی کو سامنے آیا، ان فیصلوں کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور چند سوال ایسے ہیں جن سے عام شہری بھی پریشان ہورہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ واٹس ایپ کال سے تفتیش کرنے والوں کا انتخاب ہوا ہو؟

کیا کبھی ایسے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ نے ماضی میں اس طرح کی جے آئی ٹی بنائی؟

کیا کسی بھی پٹیشنر نے دبئی کی کمپنی اور میری تنخواہ پر درخواست دی
تھی؟

کیا قومی سلامتی اور دہشت گردی کی تفتیش کے سوا خفیہ ایجنسیوں کو کبھی
تحقیقات کی ذمے داری دی گئی؟

کیا ہماری 70 سالہ تاریخ میں کبھی کسی ایک مقدمے میں 4 فیصلے سامنے آئے؟

کیا کبھی وہ جج صاحبان دوبارہ حتمی فیصلے والی بینچ میں شامل ہوئے جو پہلے فیصلہ دے چکی ہو؟

کیا ان جج صاحبان کو جے آئی ٹی رپورٹ کو دیکھے بغیر فیصلے کا حق تھا؟

کیا نیب کو قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کام کی عدالتی ہدایت دی جاسکتی ہے؟

کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے مطابق ہے؟

کیا عدالتی تاریخ میں کبھی ایسے جج کا انتخاب ہوا جو پہلے ہی خلاف فیصلہ دے چکا ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں