46

پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کردیا

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت 5 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ختم ہوگیا۔

امریکی صدر نے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی کے اعلان پر پاکستان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے جس کے پیش نظر وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور مشیر قومی سلامتی نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں وزیر خارجہ، خزانہ، داخلہ سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔

اجلاس میں امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں امریکی پالیسی پر مجموعی طور پر پاکستان کی حکمت عملی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں، سفارتی کوششیں، پاک افغان سرحد کو مؤثر بنانے کے اقدامات اور افغان امن عمل کا حصہ بننے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی پر پاکستان کی جانب سے جامع حکمت عملی اور مفصل جواب تیار کرلیا گیا ہے جب کہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سفارتی آپشنز اور اب تک کے اقدامات کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کےمطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن کیے گئے اور جو جاری ہیں، ان میں حاصل تمام کامیابیوں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔

اجلاس میں امریکی پالیسی کے بعد دوست ممالک کے ساتھ مؤثر رابطے کرنے کے لیے بھی جامع پلان بنالیا گیا اور سفارتی سطح پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں استحکام کے لیے مخلصانہ کوشش کی ہیں اور اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ امریکی سینیٹرز کو دہشت گردوں سے کلیئر کرائے گئے قبائلی علاقوں کا دورہ کرایا گیا جب کہ امریکاسمیت تمام ممالک پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کااعتراف کرچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ بریفنگ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں اور کامیابیاں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نےاجلاس کودورہ سعودی عرب کےبارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز سعودی عرب کا بھی دورہ کیا جہاں سعودی ولی عہد سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

عمران خان کا ٹرمپ کے الزامات پر قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ
جب کہ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سفیر کے سامنے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو امریکا سے کسی مالی یا عسکری امداد کی ضرورت نہیں، دہشت گردی کے خلاف ہمارےکردار اور اعتماد کو تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں