23

پیپلز پارٹی کی آئین میں ترمیم کی مخالفت

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی نے آئین کی شق 62اور63 میں ترمیم کی مخالفت کردی، خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نواز شریف کو بچانے کے لیےیہ ترمیم کرنا چاہتی ہے، جس کی کسی صورت حمایت نہیں کریں گے۔

پارلیمینٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ کسی کو بچانے کے لئے ترمیم کی بات کی جائے تو معاملہ پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج بھی کیا جاسکتا ہے۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ جب ہم نے 63،62میں ترمیم کی بات کی تواس وقت ایسی کوئی بات نہیں تھی،ہم تو اس وقت ذوالفقار بھٹوکا آئین بحال کرنے اورضیاء الحق کی ڈالی گئی شقوں کا خاتمہ چاہتے تھے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت بات اور تھی اب وقت نہیں ہے،اس وقت ہم آئین میں ایسی ترمیم کےحامی نہیں جس سےلگےکسی کوبچایاجارہاہے، پاکستان پیپلز پارٹی اس طرح کی ترمیم کی بھرپور مخالفت کریں گی،وقت آنے پرآئینی ترامیم ہوجائینگی، حکومت وقت کو چاہیئے کہ وہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نواز شریف کو بچانے کے لیے ترمیم کرنا چاہتی ہے، انہوں نے(ن) لیگ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے آصف زرداری کو پھنسانے کیلیےترامیم کو ختم کرنے مخالفت کی تھی ، مگر اللہ کی قدرت ہے کہ وہ خود اس میں پھنس گئے ہیں۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےخورشید شاہ نے پرویز رشید کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈان لیکس کی رپورٹ کو شائع کیا جائے، ساتھ انہوں نے امریکی صدرکوم نہ توڑجواب دینےپر بطوراپوزیشن لیڈرچین کاشکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے آئین کے آرٹیکل 62،63 کے تحت نااہلی کی مدت میں کمی کیلئے ترمیمی بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت کا کوئی ذکر نہیں ہے، ہمارے خیال میں نااہلی کی مدت 5 سال سے بھی کم ہونی چاہئے، زائد حامد کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ آئینی ترمیم کمیٹی میں لے جائیں گے۔اس سے قبل قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات بل 2017 بھی منظور کیا تھا، بل میں حکومت اور اپوزیشن کی 40 سے زائد ترامیم شامل تھیں جبکہ تحریک انصاف نے 4 نکات نہ ماننے پر ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں