42

دہشت گردی کے الزامات پر پاکستان کا ردعمل؟؟

امریکا کو نئی پالیسی پر مؤثر سفارتی ردعمل دینے کے لئے حکومت نے دفتر خارجہ میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نئی امریکی افغان پالیسی کے جواب میں سفارتی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، ڈی جی امریکا، ڈی جی اقوام متحدہ، ڈی جی افغانستان منصور خان، ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا سمیت دیگر حکام شرکت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے متوقع سخت ردعمل یا پابندیوں کی صورت میں آپشنز پر غور ہوگا اور اجلاس میں سخت امریکی بیانات پر دوست ممالک کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کے متوقع دورہ امریکا سے متعلق بھی پالیسی بنائی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا پالیسی اعلان کے موقع پر خطاب کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ اور دوسری صورت میں نقصان ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں بھارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کے معترف ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنینگ نے امریکی صدر کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن پر رہا اور پاکستان نے اس جنگ میں عظیم قربانیاں اور تعاون پیش کیا۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی برداری کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مکمل طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے اور عالمی امن اور استحکام کے لئے امریکا اور پاکستان کے تعاون پر چین مطمئن ہے جب کہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کی پالیسیاں خطے اور افغانستان کے استحکام اور ترقی کے لئے ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں