36

لاہور واقعہ: آج ملک بھر میں وکلا کی ہڑتال

لاہور ہائیکورٹ واقعے کے خلاف آج ملک بھر میں وکلا کی جانب سے ہڑتال کی جارہی ہے۔

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے ملتان بار کے صدر کی گرفتاری کا حکم دیا تھا جس پر وکلا بپھر گئے تھے۔ وکلا نے لاہور ہائیکورٹ میں شدید ہنگامہ آرائی کی اور عدالت کا مرکزی گیٹ بھی توڑ ڈالا جب کہ وکلا کے پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔

وکلا نے کل ہونے والے واقعے کو پولیس گردی قرار دیتے ہوئے آج ملک بھر میں ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عدالتوں میں کام مکمل طور پر بند ہے۔

کراچی میں بارایسوسی ایشن کی اپیل پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور وکلا نے سٹی کورٹ کے داخلی راستے بند کردیئے ہیں جب کہ سائلین کو بھی عدالتوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

حیدرآباد میں ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کی اپیل پر وکلا ہڑتال کررہے ہیں اور عدالتوں کا بائیکاٹ جاری ہے۔ سندھ بار کونسل کی اپیل پر جیکب آباد، شکار پور اور کشمور میں بھی وکلا کی ہڑتال ہے۔

پشاور میں بھی خیبرپختونخوا ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر ہڑتال کی جارہی ہے، وکلا نے ماتحت عدالتوں میں بھی ہڑتال کی ہے اور عدالتی کارروائی مکمل طور پر ٹھپ ہے جس کے باعث سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

لاہور میں بھی وکلا نے مکمل طور پر عدالتی بائیکاٹ کر رکھا ہے اور مقدمات کے لیے پیش نہیں ہوئے جب کہ پولیس نے ہائیکورٹ جانے والے تمام راستے کنٹینر لگاکر بند کردیئے ہیں اور عدالت کی سیکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔

ملتان میں وکلا نے ہڑتال کے دوران عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور بار کے صدر شیر زمان کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر آصف تمبولی نے کہا ہےکہ بار آج وکلا کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مکمل ہڑتال کررہی ہے، اس تنازعے میں وکلا کے ساتھ کھڑے ہیں، وکلا سے پولیس گردی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

ملک بھر میں وکلا کی ہڑتال کی وجہ سے قیدیوں کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس عدالتی حکم کے باوجود ملتان بار کے صدر شیر زمان کی گرفتاری میں ناکام رہی ہے۔

ملتان بنچ میں ججز کے ساتھ بدتمیزی کے خلاف کیس کی لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہ میں لارجر بینچ نے سماعت کی جس دوران آر پی او ملتان عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ رات گئے شیرزمان کے گھر پر چھاپا مار کر اس کے بھائی اور بھتیجے کو گرفتار کیا گیا ہے، شیر زمان قریشی کو گرفتار کرنے کے لیے متعدد چھاپے مارے، ابھی تک شیر زمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

لارجر بینچ نے شیر زمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو8 ستمبر تک مہلت دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں