60

ایک اچھا لکھاری کیسے بنا جائے؟

لکھنا ایک ہنر ہے اور کسی بھی دوسرے ہنر کی طرح اس کو بھی سیکھا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خوبی چند افراد میں پیدائشی ہوتی ہے وہ غلطی پر ہیں۔ کوئی بھی شخص جو لکھنے پڑھنے کے بنیادی قائدے سے واقف ہے اور لکھنے کا شوق رکھتا ہے وہ ایک اچھا لکھاری بن سکتا ہے۔ ذیل میں دی گئی چھے باتوں پر عمل کر کے آپ بھی ایک اچھے لکھاری بن سکتے ہیں۔

لکھنے کا شوق اور غیر معمولی جذبہ پیدا کریں۔
لکھنا یقیناً ایک مشکل عمل ہے۔ لیکن غیر معمولی جذبے اور جنون کے آگے کوئی بھی مشکل زیادہ دیر حائل نہیں رہ سکتی۔ ایک لکھاری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں لکھنے کی لگن ہو اور یہ جذبہ ہو کہ اسے ایک دن ایک اچھا لکھاری بننا ہے تو کوئی بعید نہیں کے وہ ایک دن اپنی منزل کو پا لے گا۔ اچھا لکھاری بننے کے لیے پہلی چیز یہ ہے کہ لکھنے کے جنون کی آگ کو بجھنے نہ دیں۔

روزانہ لکھنے کی پریکٹس (مشق) کریں۔
کسی بھی فن میں یکتا اور طاق لوگوں کی زندگی پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیں آپ کو پتا چلے گا کہ وہ کئی سالوں کی مشق کرنے کے بعد ہی اوجِ کمال تک پہنچے ہیں۔ ایسے ہی بڑے بڑے لکھاریوں نے بھی اپنا لہومنوانے کے لیے مسلسل پریکٹس کی ہے۔ اگر آپ آج سے روزانہ ایک صفحہ لکھنا شروع کردیں تو ایک سال کے بعد آپ اپنی لکھائی میں واضح بہتری محسوس کریں گے۔ اس لیے لکھنے کی مشق جاری رکھیں۔

وکیبویلری یعنی ذخیرہ ِ الفاظ میں اضافہ کریں۔
جذبے اور مشق کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس الفاظ کا مناسب ذخیرہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ کے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ تحریر کے بیچ پھنس جائیں یا پھر غیر موزوں الفاظ کا استعمال کر کے ساری تحریر کا مفہوم ہی بدل دیں۔ روزمرّہ استعمال کی زبان میں لکھنا اسی لیے آسان ہوتا ہے کہ آپ کے پاس ہر طرح کے الفاظ ہوتے ہیں اور آپ کو زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑھتا۔ لیکن اگر آپ کسی دوسری زبان مثال کے طور پر انگریزی میں لکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ روزانہ کی بنیاد پرنئے الفا ظ اور ان کا استعمال سکھیں۔

روزانہ مطالعہ کریں۔
جیسے ایک نومولود بچہ بولنے سے پہلے سنتا ہے۔ لفظ اس کے دماغ میں ذخیرہ ہوتےرہتے ہیں۔ اور ایک خاص وقت تک سننے اور آوازوں کی پہچان کرنے کے بعد ایک دن وہ بولنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے ہی ہر لکھاری کے لیے لکھنے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے۔ روزانہ کا مطالعہ ایک لکھاری کونہ صرف پہلے سے لکھے ہوئے علم سے روشناس کرواتا ہے بلکہ اس کے خیالات میں پختگی لاتا ہے۔ روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنے سے نئے لکھاری کو پرانے لکھاریوں کے لکھنے کے طریقے کار سےبھی آشنائی ہوتی ہے اور اسے یہ بھی پتا چلتا ہے ایک خیال سے دوسرے خیال کو کس طرح سے جوڑا گیا ہے اور معلومات اور تجربات کو کس طرح ایک مناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ روزانہ کا مطالعہ ہر اچھے لکھاری کا خاصہ ہے۔ آپ بھی اپنی عادت بنائیں۔

مشاہدہ کرنےکی صلاحیتوں کو بروے کار لائیں۔
ایک لکھاری وہ لکھتا ہے جو وہ محسوس کرتا ہے۔ اس لیے ہر لکھاری کو ایک اچھا مشاہدہ کرنے والا ہونا چاہے۔ ایک لکھاری اپنے باغور مشاہدے سے نہ صرف پہلے سے لکھے ہوئے میں کمی اور خامی دیکھ سکتا ہے بلکہ وہ اسی مشاہدہ کی بدولت اپنے اطراف سے وہ علم بھی حاصل کر سکتا ہے جو کسی دوسرے کو حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا ہوتا۔ ایسے علم کو فرسٹ ہینڈ نالج کہا جا سکتا ہے۔ اور یہ علم عمل سے انتہائی قریب ہوتا ہے۔ روزانہ مشاہدہ کرنے کی صلاحیتوں کو بروے کار لائیں۔

اپنی موٹیویشن (تحریک) خود تلاش کریں۔
آپ کو اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مضامین سے رہنمائی مل جائے گی لیکن پھر بھی عین ممکن ہے کہ آپ ایک اچھے لکھاری نہ بن سکیں۔ کیونکہ ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے لکھنے کی نہیں لکھتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور لکھتے رہنے کے لیے تحریک یعنی موٹیویشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ موٹیویشن یا تحریک کوئی ایسی چیز نہیں جس کو سیکھا جا سکے۔ بلکہ ہر لکھاری کو اسے خود میں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ جو چیز بھی آپ کو لکھنے کی تحریک دیتی ہے وہ آپ کو اچھا لکھاری بنانے کی طرف لے کر جاتی ہے۔ کچھ لکھاریوں کو انتہائی خوشی یا انتہائی غم کا کوئی واقعہ متحرک کرتا ہے کہ وہ اپنی خوشی یا دکھ کو دوسروں کے لیے قلم بند کریں اور کچھ لکھاریوں کو مقابلہ اور بہتر ہونے کی تڑپ موٹیویٹ کرتی ہے۔ آپ کو جس بھی سوچ ، جذبے یا چیز سے تحریک ملتی ہے اس کی تلاش خود کریں اور لکھتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں