49

نواز شريف اور پاکستان کا عدالتی نظام

امریکی صدر ٹرمپ اپنے انتہاپسند بیانئے کی بدولت اقتدار میں آیا۔ ایک سال پر محیط الیکشن کیمپین مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، تارکین وطن پر پابندی لگانے اور ‘ خالص ‘ امریکیوں (یعنی گوروں) کے مفاد کو ترجیح دینے کے وعدوں پر مشتمل تھی جس کی وجہ سے مضافاتی علاقوں کے لوگوں اور قدامت پسند امریکیوں نے دل کھول کر ٹرمپ کو ووٹ دیئے۔

صدر بننے کے بعد ٹرمپ پر سب سے زیادہ پریشر یہی تھا کہ اپنے ووٹر کو فوری طور پر خوش کرسکے، چنانچہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، 7 مسلمان ممالک کے شہریوں پر پابندی کا آرڈیننس جاری کردیا جس کی وجہ سے ان ممالک سے سفر کیلئے آئے مسلمان ائیرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔

معاملہ فوری طور پر عدالت میں گیا اور جج نے امریکی صدر کا آرڈیننس مسترد کردیا۔ ریاستی جج سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا اور وہاں بھی ٹرمپ کو شکست ہوئی۔ اس نے چند ہفتوں کے بعد کچھ ترامیم کے بعد یہ آرڈیننس پھر جاری کردیا اور عدالت نے پھر اسے مسترد کردیا جس پر ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ عدالت اسے حکومت نہیں کرنے دے رہی۔

ٹرمپ کے ان الفاظ پر میڈیا اور کانگریس میں طوفان مچ گیا اور لوگوں نے اسے عدالتی سسٹم پر حملے کے مترادف قرار دے دیا۔ ٹرمپ کو فوری طور پر وضاحتی ٹویٹ جاری کرنا پڑا کہ اس کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا۔

یاد رکھیں، وزیراعظم کو برطرف کرنے سے جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی، بلکہ ملک کے سب سے بڑے انصاف کے ادارے سے اپنی کرپشن پر نااہل ہونے کے بعد اس پر حملہ آور ہونے سے جمہوریت کے ساتھ ساتھ ملک کی بنیاد بھی ہل کر رہ جائے گی۔

یہ وہی عدالت ہے جس نے 1993 میں نوازشریف کی اسمبلی بحال کی تو معتبر ٹھہری، اسی عدالت نے نوازشریف کے خلاف مشرف کے ناجائز اقدامات کو ختم کیا تو تعریف کی حقدار ٹھہری، اسی عدالت نے نوازشریف سمیت اپوزیشن کے مطالبے پر یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمی سے برطرف کیا تو نوازشریف کی نظروں میں نظام کے استحکام کا سبب بنی۔

آج اسی عدالت نے نوازشریف کی بدترین کرپشن پر جب اسے برطرف کیا تو جمہوریت خطرے میں پڑگئی؟

خدا کی قسم اگر وہاں کے صدر کی نوازشریف کی طرح دولت بیرون ملک پکڑی جاتی اور وہ اسے جائز ثابت کرنے کیلئے ایک بھی بنک ٹرانزیکشن ثابت نہ کرپاتا تو عدالت تو اسےسزا دیتی ہی، عوام کی نظروں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار ہوجاتا۔

امریکہ اور پاکستان میں جوفرق ہے، وہ جغرافیائی لوکیشن کا نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے اجتماعی رویئے کا ہے، اگر آپ اپنے ویلیو سسٹم یعنی اقدار کے معاملے میں اس قدر پستی کا شکار ہوچکے ہیں کہ کرپشن کا ایک مجرم آپ کو مظلوم لگنے لگے تو خطرہ آپ کو انڈیا، اسرائیل یا امریکہ سے نہیں بلکہ آپ کے اپنے ویلیو سسٹم سے ہے۔

جب عوام میں حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر ان کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے، انشا اللہ، نوازشریف کی حمایت کرنے والے دنیا اور آخرت میں اس کی سزا ضرور پائیں گے!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں