45

بادشاہ ننگا ہے…. !

بادشاہ ننگا ہے

کہتے ہیں کہ کسی ملک کے بادشاہ کو منفرد نظر آنے کا خبط تھا۔ اس کے لیے وہ ہر روز کچھ نہ کچھ نرالا کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔
ایک روز اس نے اپنے شاہی درزی کو حکم دیا کہ میں روز روز لباس بدلنے سے تنگ آ چکا ہوں، مجھے کوئی ایسا لباس بنا کر دو جو روزانہ کچھ نیا بن جائے، ایسا لباس جو کسی کے پاس نہ ہو۔ اور اگر تم ایسا نہ کر سکے تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔

۔ ایسا لباس نہ بننا تھا نہ بنا۔ آخر بادشاہ کا بلاوہ آگیا۔ درزی نے اپنی زندگی کی آخری بازی کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، جان تو ویسے بھی جانا ہی تھی، کچھ چالاکی کر کے آخری کوشش کیوں نہ کی جائے۔ یہی سوچ کر وہ ایک مرصع صندوق لیکر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ لباس تیار ہے، بس حضور یہ احتیاط فرمائیں کہ اسکو غسل کے بعد اکیلے میں زیب تن فرمائیں۔ اور یہ کہ ایسا لباس بس دنیا میں ایک ہی ہے، اور اسکی خؤبیاں بے شمار ہیں۔ آخری خوبی اسکی یہ ہے کہ یہ لباس صرف عقلمند اور دوراندیش بندے کو ہی نظر آئے گا، باقی کسی عقل کے اندھے کو اس لباس کا ایک دھاگہ بھی دکھائی نہ دے گا۔

بادشاہ خوشی خوشی صندوق لیکر غسل کرنے گیا اور جیسا کہ آپ نے جان لیا، جب وہ حمام سے باہر نکل کر لباس پہننے لگا تو صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے سوچا کہ لباس تو موجود ہے، مگر چونکہ وہ خود الو کا پٹھا ہے، اس لیے اسکو نظر نہیں آ رہا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ باہر کیسے جائے۔ خیر رستہ ایک ہی بچا تھا، وہ ننگا ہی کمر پر ایسے ہاتھ رکھ کر ایک بازو پھیلائے ، جیسے وہ لباس کا ایک پلو سنبھالے ہوئے ہے، دربار میں آ نکلا۔

اب دربار میں ہر شخص کو علم تھا کہ آج بادشاہ ایسا لباس پہن کر آنے والا ہے جو صرف عقلمندوں کو نظر آتا ہے۔ بے وقوف کو اس لباس کا دھاگہ تک نظر نہیں آتا۔ سب سے پہلے وزیر اعظم نے اپنی نوکری بچائی، اور واہ واہ کا شور بلند کر دیا، کہ کیا لباس ہے، ایسا لباس کبھی دیکھا نہ سنا، کیا سنہری تاریں ہیں، کیا لاٹیں مارتا دامن ہے، واہ سبحان اللہ۔ جب درباریوں نے ننگے بادشاہ کے بارے میں وزیر اعظم کا یہ بیان سنا تو سب لباس کی تعریف میں رطب اللسان ہوگئے۔

اتنے میں وزیر اعظم نے صلاح دی کہ پوری رعایا کو اس لباس کی زیارت کروانا چاہیے۔ سب درباریوں نے اسکی تائید کی، اور اگلے روز منادی والے ڈھول لیکر شہر کے گلی کونوں میں پھیل گئے اور ڈھول پیٹ پیٹ کر منادی کروا دی کہ ظل سبحانی، بادشاہ سلامت، ایک انوکھے لباس کے ساتھ پورے شہر کا دورہ کریں گے۔ اس لباس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف عقلمند کو نظر آئے گا، بے وقوف کو اس کا ایک دھاگہ بھی نہ دکھ پائے گا۔
اگلے روز کے سورج نے وہ انوکھا لباس تو نہ دیکھا کہ سورج بھی مہا مورکھ تھا، مگر اس نے اپنی زندگی کا انوکھا منظر ضرور دیکھا، کہ ایک بادشاہ الف ننگا گھوڑے پر سوار، ایک ہاتھ ہوا میں ایسے اٹھائے ، جیسے لباس کا پلو پکڑے ہوئے ہے، چلا جارہا ہے، اور اسکے جلو میں سینکڑوں چاپلوس درباری چلے آرہے ہیں، اور رعایا سڑکوں کے کنارے کھڑی بادشاہ پر پھول برسا رہی ہے۔ ہر کوئی اس اندیکھے لباس کو دیکھ کر واہ واہ کر رہا ہے، جو کسی کو بھی نظر نہیں آ رہا۔ کوئی دوسرے کو یہ بتانے کو تیار نہیں کہ اسے لباس نظر نہیں آ رہا کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اسکو بے وقوف سمجھ لیا جائے گا۔
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ یہ جلوس ایک کھیل کے میدان کی طرف جا نکلا ، جہاں بچے کھیل رہے تھے۔ وہاں کھیلتے سب سے چھوٹے بچے نے جب یہ ہییت کذائی دیکھی تو چلا اٹھا، ارے دیکھو، بادشاہ ننگا ہے، ارے دیکھو دیکھو، سارے دیکھو، بادشاہ ننگا ہے۔ باقی بچوں نے بھی جب دیکھا تو سب اکٹھے ہو کر چلانے لگے، بادشاہ ننگا، بادشاہ ننگا ۔ ۔ ۔

دوستو! کوئی ہے جو جی ٹی روڈ پر گزرنے والے قافلے کو بتائے کہ “بادشاہ ننگا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں