120

دولت کے ترازو میں محبت کی قیمت… !

انسان کی زندگی میں کیا اہم ہے، محبت یا دولت؟ جب محبت اور دولت باہم ٹکراتے ہیں تو ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگوں کی زندگی کا مرکز ان کے باطن میں ہے یا ظاہر میں؟ تاہم سوال یہ ہے کہ آخر لوگ دولت کو محبت پر ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

محبت اور دولت میں ایک چیز قدر مشترک ہے اور وہ ہے ‘دھوکہ’، در حقیقت یہ دونوں ہی دھوکہ ہیں اور دونوں ہی مایا ہیں اور دونوں کا مقصد دل کو بہلانا ہوتا ہے. دولت محبت سے کہیں درجے بہتر ہے جسکی کی دو وجوہات ہیں ایک یہ دولت ہاتھ کی میل ہونے کے باوجود ظاہر ہے اورکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، دولت کی مدد سے تمام مفاد حاصل کئے جاسکتے ہیں جبکہ وقتی طور پر جذبات کو بھی خوش کیا جا سکتا ہے. دولت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ محبت کی طرح جذبات کو روندتی نہیں ہے، دولت انسان کی دکھ نہیں بلکہ سکھ دیتی ہے. دولت سے ہی انسان کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے، کسی کی محتاجی سے بچاجاسکتا ہے اور عزت کی زندگی میسر آتی ہے۔ دولت محبت سے زیادہ اہم اس لئے بھی ہے کہ اس لیے کہ محبت سے دولت نہیں خریدی جاسکتی البتہ دولت سے محبت خریدی جاسکتی ہے۔

دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکن

بچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھا

جبکہ دوسری جانب محبت ایک مخفی دھوکہ ہے جو حسین احساسات کا لبادہ اوڑھ کر انسان کو دیمک کی طرح چاٹ ڈالتا ہے اور اسے لقمہ اجل بنا دیتا ہے. محبت کا دھوکہ انسان کے جذ بات کو تادم مرگ روند کر رکھ دیتا یے کہ وہ کبھی دوبارہ سکھ کا سانس نہ لے سکے. محبت انسان کو ذلیل وخوار کرنے والے ہر دھوکے کی جڑ ہے، محبت سے اجتناب کرنا ممکن ہے مگر اس کے ڈسے جانے کے بعد اس کا علاج ناممکن ہے. اپنے دل کو مردہ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اس دھوکے کو مار دیں جوکہ عنقریب آپ کے مردہ دل کا سامان ہوگا.


اس موضوع کے دوسرے رخ پر  بات کرتے ہیں ہر انسان کی زندگی کا آغاز محبت کے تجربے کے ساتھ ہوتا ہے، بطنِ مادر میں ہی اگر ماں کی محبت نہ ہو توانسان کی پرورش ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو اپنی نشوونما کے لیے ماں باپ کی محبت اور نگہداشت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس عرصے میں وہ محبت کے سوا کسی چیز کو نہیں پہچانتا۔ اس عمر میں انسان محبت کھاتا ہے‘ محبت پیتا ہے‘ محبت اوڑھتا ہے‘ محبت بچھاتا ہے‘ محبت میں سانس لیتا اور محبت میں چلتا پھرتا ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کو اپنی عمر کا یہ ’’تجربہ‘‘ یاد نہیں رہتا اور وہ اپنے احساس کو شعور میں نہیں ڈھال پاتے یا اگر ڈھالتے بھی ہیں تو مجازی خدا کی محبت سے ایسے ڈسے جاتے ہیں کہ دوبارہ سنبھل نہیں سکتے اور محبت کے لفظ بھی انہیں گھن آنے لگتی ہے.

آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

دنیا کا کوئی انسان محبت کا انکاری نہیں ہے کوئی بھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ محبت کرنے والا نہیں ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ محبت کے خلا کو دولت سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں. دولت محبت کے اظہار کی ایک صورت ہوسکتی ہے مگر انسان کا مجموعی طرزعمل بتا دیتا ہے کہ دولت ’’محبت کا اظہار‘‘ ہے، یا محبت کی عدم موجودگی کا پردہ۔ بدقسمتی سے دولت محبت کی عدم موجودگی کا پردہ بن گئی ہے اور ہم اپنی نسلوں کو محبت پر پالنے کے بجائے دولت پر پال رہے ہیں۔ اس صورت حال میں لوگ دولت کو محبت پر ترجیح نہ دیں تو اور کیا کریں؟ جس طرح دولت انسان کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح محبت بھی انسان کی ضرورت ہے. دولت کا حصول بھی محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے.

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

حالیہ دور میں دولت معاشرے میں عزت کی علامت بن گئی ہے‘ انسانوں کی خوشیاں اشیا سے وابستہ ہوگئی ہیں جوکہ صرف دولت سے آتی ہیں۔ دولت کا یہ غلبہ انسانوں کو یقین دلاتا ہے کہ دولت سے کچھ اور کیا محبت بھی خریدی جاسکتی ہے۔ لوگ جس چیز کو محبت خریدنا کہتے ہیں وہ کسی خوب صورت عورت کو بیوی یا خوب صورت مرد کو شوہر بنالینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور کسی کے بیوی یا شوہر خرید لینے سے محبت ہاتھ نہیں آتی، اور جو محبت پیسے سے جنم لے وہ محبت نہیں محبت کا بخار ہے‘ محبت کا دھوکا ہے.

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

محبت چاہئے تھی بس محبت چاہئے ہے…!

تحریر:

سیدہ جاریہ حسن

اپنا تبصرہ بھیجیں