131

ننھی پنکی کی یاد میں… !

موسم بدلتے رہتے ہیں اور یہ بدلتے موسم موڈ اور کیفیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اور پھر ان موسموں سے جڑی یادیں ماضی سے نکلنے نہیں دیتیں۔یادوں کا تعلق ماضی سے ہوتا ہےاور یادیں یادیں ہی ہوتی ہیں چاہیں وہ یادیں خوشگوار یادیں ہوں یا بے قرار یادیں۔خزاں جدائی کا موسم ہےاداسی اور تنہائی کا موسم ہےفراق اور غم کا موسم ہے۔

اہل دانش کہتے ہیں کہ جدائی موت ہےجدائی میں کرب اور اذیت ہے۔پتے جب شجر سے جداہو کر زمیں پے گرتے ہیں تو کیسے روندے جاتے ہیں ۔قطار سے بچھڑی کونجیں قیامت خیز جدائی کے نوحے سناتی ہیں۔

ایک ایسی ہی سرد شام میں بھی ایک ایسی ہی جدائی سے دوچار ہوا جس کا سد باب اب ممکن نہیں۔میں ایک ایسی نعمت سے محروم ہوگیا جو شاید ہمیں میسر ہی اس لیے آئی تھی کہ ہمیں ایک ایسے بلند مقام اور مرتبے سے سرفراز کر جائے جو کہ صرف قسمت اور مقدر والوں کو میسر آتا ہے۔آہ کیا احوال سنائوں اسکا۔سال نو کی خوشی میں دنیا جہاں خوشیاں منا رہی تھی وہیں قدرت نے میرے آنگھن میں بھی ایک پری صورت ننھی منی گول مٹول سے کونپل کھلا کر ہماری خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔ننھی کونپل نے آتے ہی اپنی مہک سے میرے آنگھن میں ہر سو خوشبو اور روشنیا ں بکھیر دیں۔وہ کیسے قبولیت کے لمحات تھے کہ اللہ تعالٰہ نے میری دیرینہ خواہش بیٹی عطا فرما کر پوری کر دی۔اس نعمت کو پا کر ایسا محسوس ہونے لگا گویا انگ انگ میں روانی تازگی اور محبت سمو گئی ہو۔سرخ وسفید رنگت ہونے کے باعث اسے پنکی کہہ کر پکارا جانے لگا۔

بعدازاں گھر کا ماحول قدرے مذہبی ہونے کی حثیت سے اس ننھی کلی کا نام تاریخ اسلام کی اس بہادر اور عظیم خاتون کی نسبت سے رکھا گیا جن کو نسبت رسول کی وجہ سے وہ عظیم مراتب ملے جو صرف انھی کا خاصہ تھے۔تاریخ ان کو حضرت سیدہ اسمہ بنت ابوبکر صدیق کے اسم پاک سے جانتی ہے۔اسی نسبت سے ننھی کلی کا نام اسمہ ایوب رکھا گیا۔زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں اور بھرپور آب وتاب کے ساتھ رواں دواں تھی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ننھی اسمہ ایوب پر ایک نیا نکھار اور روپ دیکھنے کو ملتا۔

وقت تیزی سے دنوں کی صورت میں گزرتا گیااور پھر وہ دن آگیا۔وہ دن جسےشاید میں کبھی بھی نہ بھلا پائوں ۔وہ دن ایسا دن گویا وقت نے مجھے صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہو۔گویا اپنے آپ کو بھول گیا ہوں اس خزاں رسیدہ پتے کی مانند ہو گیا ہوں جو بے شجر ہو کے زمیں پہ آن گراہو۔کونجو ں کی اس قطار سے بھٹک گیا ہو جس نے اپنی سمت کھو دی ہو۔وہ دن ایسا دن جس دن مجھ سے میری ننھی کلی میری پیاری پنکی میری اسمہ ایوب جدا ہوگئی۔اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے جدا ہو گئی۔کیا بتاِوں وہ کیا چیز تھی۔اس کی دنیا میں آمد کی طرح اس کا دنیا سے جانے کا انداز بھی نرالا تھا۔وہ میرے سامنے ہی میری آنکھوں کی بلکل سامنے ہمیں داغ جدائی دے کر رب کے حضور حاضر ہو گئی اور جاتے جاتے بھی اپنے مسکراتے اور معصوم چہرے کے ساتھ پیغام دے گئی کہ بابا جانی پریشان مت ہونا میں پھر آئوں گی آپ کے پاس کسی اور رنگ وروپ کے ساتھ مگر اللہ کی رحمت بن کر۔ کیا بتائوں اے میری ننھی کلی میری پیاری پنکی تجھے کھو دینے کا کتنا قرب ہےپر قدرت کے کاموں اور رازوں سے بے خبر ہوں کہ یہ تو قدرت کا قانون اور اس دنیا کا دستور ہے۔

آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے
جامئہ زیست نیا اور پرانا کیسا

میں وہ گھڑیاں وہ لمحات کیسے فراموش کر پاِوں گاجب تجھے دو سفید چادروں میں لپٹا دیکھ کر دل پارہ پارہ ہو رہا تھا۔مگر تیرا چہرہ پھر بھی چمک رہا تھا پر تیری جدائی کھائے جا رہی تھی۔تیرے فراق میں ہر چیز کو میں نے نم آلود دیکھا۔

دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے
سورج بھی تھا ملول زمیں پر جھکا ہوا

یا رب العالمین میں تیری رضا پر راضی ہوں بس تو بھی ہم سے راضی ہو جااور میری اسمہ ایوب کے صدقے سے ہم سب کی بخشش ومغفرت فرما۔آمین

ننھی پنکی کی یاد میں

تحریر :
محمد ایوب ملک
muhammadayubmalik@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں