102

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی سرجری

مریم نواز ‘بادی النظر’ میں لندن فلیٹ کی مالک ہے۔

جناب کسی کو’بادی النظر’ میں مجرم کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ یعنی آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں، کوئی ڈاکومنٹ نہیں، اورملزم بھی کہہ رہا ہے، کہ فلیٹ میرے نہیں۔ میری ملکیت میں نہیں۔ لیکن محض قیاس اورقیافہ سے عدالت الزام دھررہی ہے۔

تہذیب نے انصاف کا ایک یونیورسل معیاررکھا تھا، کہ ‘شک کا فائدہ ملزم کوملے گا’۔۔۔ ‘بادی النظر’ شک ہوتا ہے۔۔ اس کا فائدہ ملزم کوکیوں نہیں دیا گیا۔۔؟

جج صاحب جوقانون کی کتابیں پڑھ کرآپ عدل کی کرسی پربیٹھیں ہیں، ان کو کتنی آسانی سے پھاڑکرپھینک دیا ہے۔

رہ گیا ‘بینفشیل’ ہونا۔۔ توفیملی میں ہرفرد بینیفیشل ہوتا ہے۔۔ بھائی کا فلیٹ ہے۔ بہن بھی آ کررہے گی۔۔۔ حتی کہ بھائی کی اجازت پر اس کا کرایہ بھی وصول کرسکتی ہے۔

اس سارے episode کا امتیازی رخ یہ ہے، کہ کسی کی پرسنل لائف میں انتہائی درجے کی بدنیتی پرمبنی مداخلت کی جارہی ہے۔ ان کی پرائیویسی کو جرم بنایا جارہا ہے۔

آپ کسی کے گھرچلیں جائیں۔ توتفتیش شروع کردیں، بھائی نے بہن کویہ کیوں دیا، بیٹے نے باپ کوفلاں کیوں دیا۔۔ جو دینا تھا، وہ کیوں نہیں دیا۔۔۔ دادا نے پوتوں کوکیوں دیا۔۔

یہ پرسنل sphere ہے، کسی خاندان کے اندرجاکراس طرح کی تفتیش شروع کردیں گے۔۔ تو اس ملک کا ایک غریب ترین فرد بھی کرپٹ ثابت ہوجائے گا۔۔۔ چونکہ نیت ہی باندھ لی ہے۔

نواز شریف نے ‘بے وقوف’ بنانے کی کوشش کی

پہلی دفعہ پتا چلا ہے، ‘بے وقوف’ بنانا بھی جرم ہے۔۔؟ جب کہ ہمارے معاشرے میں ‘بے وقوف’ بنانا معمول کا مذاق بھی ہے۔

ہم کئی دفعہ زندگی میں کسی کوکہتے ہیں، ‘تم مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔۔ یا بے وقوف بنانا چاہتے ہو۔۔۔ یا فلاں نے مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔۔۔ کیا یہ سب عوامل قانون، پولیس، عدالت کے دائرہ میں آتے ہیں۔۔ کیا دنیا میں محض ‘بے وقوف’ بنانے کی کوشش میں کبھی کوئی ایف آئی آرکٹی۔؟ یا کسی نے تھانے میں شکائیت کی ہو، کہ فلاں شخص نے مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔

یہ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کیا کہہ رہی ہے؟ اس کی قانون اورانصاف کی فہم کہاں چلی گئی ہے۔۔ ‘نواز شریف بے وقوف بنا رہا ہے۔ یہ سیاسی بیان توہوسکتا ہے۔ قانون میں کیسے آ سکتا ہے؟

ہوسکتا ہے، وہ بے وقوف نہ بنا رہا ہو، سچ اورخلوص سے بات کررہا ہو۔۔۔ بے وقوف بنانا عملی نہیں زہنی کیفیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ بندہ مجھے بے وقوف بنا رہا ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے، ایسا نہ ہو، وہ اپنی نیت میں ٹھیک ہو۔۔ تصورانصاف اورقانون کی دھجیاں یوں بکھریں گے۔۔؟

نواز شریف نے ‘اثاثے چھپائے

ایک ارب پتی شخص اپنے اربوں کے اثاثے ڈیکلئرکرتا ہے۔ لیکن اقامے کی تنخواہ دس ہزاردرھم کا “بیش بہا اثاثہ” ‘چھپا’ لیتا ہے۔۔ جو عدالت بھی مانتی ہے کبھی لیا نہیں۔ اس معیارانصاف سے تو ڈوب کرمرنا اچھا ہے۔

میری ذاتی مثال ہے۔ میں اپنی انکم ٹیکس ریٹرن میں بسا اوقات ان بینک اکاونٹ کا ذکرنہیں کرتا۔۔ جن میں ہوسکتا ہے، چند ہزارروپے پڑے ہوں، لیکن عرصہ ہوا، ان اکاونٹس کواستعمال نہیں کیا۔ اب اگرمجھ پر’ہیروں والی جے آئی ٹی’ اورسپریم کورٹ کے یہ جج بٹھا دیئے جائیں۔ تومجھے دو تین ہزار روپے کے ‘اثاثے’ چھپانے پرسزا ہوسکتی ہے۔۔ حالانکہ میں نے اپنے سبھی اثاثے کروڑوں کے بتادیے ہیں۔

کیا کہیں دو تین ہزارروپے پڑے ہووں کا ذکرنہ کرنا جرم ہوگا۔۔؟ وہ کسی الماری میں بھی پڑے ہوسکتے ہیں۔ فاضل ججوں! اس طرح کا انصاف خود اپنے ساتھ بھی کروگے، توآپ اورآپ کے ہرخاندان کا فرد مجرم ملے گا۔۔۔ انصاف کا بھی کوئی شرم حیا ہوتا ہے۔ اس نے پبلک کے سامنے آنا ہوتا ہے۔ اسی لئے تہذیب نے انصاف کا معیاربنایا، کہ انصاف صرف ہو نہ۔۔ ہوتا ہوا نظربھی آئے.

تحریر:
ارشد محمود

اپنا تبصرہ بھیجیں