288

تین لاکھ کی دو مجالس

شاگرد: استاد جی میں نے پنڈی والوں سے معزرت کر لی ھے اور اب لالہ موسی میں محرم پڑھنے کا طے ھو گیا ھے.

استاد: پر کیوں؟

شاگرد: استاد جی پچھلے تین سال سے پنڈی والوں کے پاس پڑھ رھا ھوں، بڑے کنجوس ھیں. دس دنوں کا دو لاکھ سے زیادہ ایک پائی بھی نہیں دیتے.

استاد: پر محرم میں تو ابھی دس دن رہ گئے ھیں…پنڈی والے اب کیا بندوبست کریں گے؟

شاگرد….کچھ کر ھی لیں گے….استاد جی لالہ موسی والوں سے میں نے پانچ لاکھ میں طے کیا ھے اور ساتھ تین لاکھ کی دو مجلسیں بھی وہ نزدیکی علاقہ میں سودا کرا دیں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا ھے.۔

استاد: پرمیں نے سنا ھے لالہ موسی میں مجمع کی اکثریت غالی عقیدہ ھے…؟

شاگرد: وہ آپ فکر نہ کریں…وہ تومیں ان کے مزاج کے ساتھ اڈجسٹ کر لوں گا…..ڈر یہ ھے کہ وھاں چند دانے پڑھے لکھے بھی ھیں…..کہیں ان میں سے کوئی نہ بول پڑے۔

استاد: میں نے تو تم کو کہا تھا کہ پڑھ لو…اور کچھ دن کسی مدرسہ میں لگا لو….بندہ چغما تو دے سکے۔

شاگرد: استاد جی اگر میں پرائمری میں تیسری بار فیل نہ ھوتا تو میرا اپنا دل یہی تھا پر تیسری دفعہ فیل ھوا تو ابا جی نے مجھے اپنے ساتھ بھٹےپر اینٹیں تھاپنے پر لگا لیا۔ یہ تو شکر ھے کہ میری آواز میں سُر تھی..کہ میں آپ کا سوزی بن گیااور آج آپ کی دعا سے میرا بھی اک نام ھے۔

استاد: لیکن یہ بھی خیال رکھنا کہ لالہ موسی میں دوسری جگہ قاضی وسیم پڑھ رھا ھے اور بڑا محنتی ذاکر ھے وہ گانا ریلیز ھونے سے پہلے اس طرز کو ممبر پہ لے آتا ھے، وہ مجمع کھینچ لے گا…

شاگرد: استاد جی آپ کا نمک کھایا ھے۔ آپ سن لیں گے۔ قاضی وسیم سے محرم اچک نہ لیا تو در بتول سےپنیا ھی نہیں۔

استاد: وہ تو ٹھیک ھے بیٹا پر قاضی وسیم کے مقابلہ کیلئے خرچ کرنا پڑتا ھے۔

شاگرد: آپ شیدے سے پوچھ لو کل ھی انڈین گانوں کی تین ھزار کی کیسٹ خرید کر گاڑی میں رکھی ھیں….دوران سفر ھم خوب ریاض کرتے ھیں….بس کچھ شاعری مل جائے…تو وسیم کو چوتھی محرم تک زیرو نہ کروں تو میرا نام نہیں…. استاد جی بس تھوڑا سا ڈر ھے تو چند پڑھے لکھوں کا…کہ انہوں نے کچھ پوچھ لیا…تو…میرے پاس تو آپ کے رٹے رٹائے مضمونوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

استاد: یہ فکر نہ کر..پہلی بات تو یہ ھے کہ کسی پڑھے لکھے نے تیری مجلس میں آکے لینا ھی کیا ھے؟ اور اگر آ بھی جائے تو پوچھنے کی جرآت نہیں کرے گا…..بس ھر مجلس میں تو نے چند گُر اپنانے ھیں….یہ گُر اچھی طرح یاد کرلے…

شاگرد….استاد جی وہ گُرکیا ھیں؟

استاد
1. ایک تو ھر مجلس میں بار بار کہو کہ میں تو ادنی سا طالب علم ھوں…اس سے پوچھنے والے سوچیں گے..کہ اب اس سے کیا پوچھنا۔

2….سامعین کو بتاؤ کہ میں آج فضائل کی معراج کرانا چاھتا ھوں…صرف حلالی میرے ساتھ سفر کر سکیں گے….اس طرح کوئی مجمع میں حرامی نہیں بنے گا۔

3…ایک اور نفسیاتی تالا لگاتے رھو کہ جس نے مانا وہ سلیمان بنا…جس نے سوچا وہ شیطان بنا….اس طرح جس نے بھانپ بھی لیا….کہ تم بلنڈر مار رھے ھو…کوئی اس ڈر سے نہیں پوچھے گا کہ اب بولوں گا..تو شیطان کہلواؤں گا۔

4…اور اگر باوجود اس کے کوئی تم سے سوال کر ھی لے….تو اب تم پزل ھو گئے تو پھر تو گئے….؟ نہایت ادب سے اپنی بات کو کسی بھی معصوم امام کے قول سےمنسوب کر دینا….پھر بولنے والے کو مجمع خود سنبھال لےگا.

شاگرد: استاد جی…پر کسی نے امام کے قول کا حوالہ مانگ لیا تو…؟

تو تم…..کنفیڈنس کے ساتھ ڈمی کتابوں کا حوالہ دے دینا….لسان اواعظین….اجارت المظلومین….وغیرہ…پھر ڈھونڈتے رھیں یہ کتابیں…؟ سر دست تم جان چھڑا لو…

شاگرد: اُستاد جی….واقعی استاد استاد ھی ھوتا ھے…..سچی بات تو یہ ھے کہ آج مجھ جیسا جاھل اگر لاکھوں میں کھیل رھا ھے..تو یہ آپ کی عنایت ھے۔

استاد: چھڈ…اب پمپ نہ مار….تو قوم کو دعا دے….جس کی قران….نہج البلاغہ…صحیفہ کاملہ….مسجد….اور مقصد حسین سے ناواقفیت کی بنا پر ھماری روٹیاں بنی ھوئی ھیں اور ان عالم نما بھیڑیوں کو دعا دے جنہوں نے قوم کو منتشرکردیا ھے۔ اب لوگ تیری اور میری بات کو مجتھدین کے فتاوی سے ذیادہ مان لیتے ھیں

منقول

اپنا تبصرہ بھیجیں