298

دوپٹہ ٹھیک کرو

دوپٹہ ٹھیک کرو

میں ننھے ہاتھوں میں سیپارہ تھامے، وجد کی کیفیت میں لہک لہک کر سبق دہرا رہی تھی ۔ دوپٹہ ٹھیک کرو! قاری صاحب نے گھورتے ہوئے کرختگی سے کہا اور مجھے سبق بھول گیا۔

امی امی صبا کے ساتھ کھیلنے جاؤں ؟ دوپٹہ ٹھیک کرو۔ امی نے میرے نابالغ جسم کے ان حصوں پر اچھی طرح میرے قد سے بھی لمبا کپڑا لپیٹ دیا جو ابھی پھوٹے بھی نہ تھے۔ وہ ناجانے کیا اور کس سے چھپانا چاہتی تھیں۔

بھائی چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ افق پر دور اڑتی پتنگ دیکھ کر میرا دل بھی مچل گیا۔ بھائی بھائی ! میں نے اس کا دامن کھینچا ،
“مجھے بھی پتنگ اڑانی ہے”
“دوپٹہ ٹھیک کرو” اس نے ناگواری سے مجھے دیکھا اور دوبارہ محو ہو گیا۔

اسکول میں آدھی چھٹی میں دوستوں کے ساتھ پٹو باری کھیلنے میں نے چادر نما دوپٹہ کمر پر باندھ لیا تھا۔ اچانک مس قدسیہ قریب آ گئیں” اپنا دوپٹہ ٹھیک کیجئے ” ان کی سخت گیر نظروں کی ناگواری مجھے سہما گئيں ۔

رخصتی کے وقت میں بلک رہی تھی، بہنوں سے لپٹی رو رہی تھی ، پیچھے سے کسی خالہ ، پھوپھی کی آواز آئی ” دوپٹہ ٹھیک کرو” اور میں ہوش میں آ گئی ۔ بے شمار نظریں مجھ پر تھیں ۔ میں نے جلدی سے خود کو سنبھالا ، دوپٹہ ٹھیک کیا اور رخصت ہو گئی۔

میرا ہوا میں جھولتا دوپٹہ موٹر سائیکل کے پہیے میں آ گیا ۔ ہم دونوں بری طرح گرے۔ میرے ھاتھ کہنیوں تک چھل گئے ، خون بہہ رہا تھا ، وہ بولا ” دوپٹہ ٹھیک کرو”۔

میں لیبر پین سے دوہری ہوئی جا رہی تھی، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا، درد میری کمر میں جیسے ڈرل کر رہا تھا۔ میری ساس نے دبی آواز میں کہا ” دوپٹہ ٹھیک کرو”

میڈم نجمہ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔ شاید کوئی نئی ذمّہ داری دینی ہوگی ۔ ” یہ آپ آجکل کیا کیا پوسٹ کر رہی ہیں فیسبک پر۔ آپ کو اپنی نہیں تو عورت ذات کی عزت و تحریم کا خیال ہونا چاہیے ۔ ضروری نہیں کہ آپ جو سوچیں اسے لوگوں کو پڑھوائیں۔ آئندہ احتیاط کیجیے گا ایسی گھٹیا پوسٹ ڈالنے میں۔” ان کی بات ختم ہوئی اور میں حیران سی واپس مڑ گئی
” اور ہاں اپنا دوپٹہ ٹھیک کریں”۔

میں زندگی کی چار دہائیاں دیکھ چکی ہوں۔
یہ پٹہ جو معاشرے نے میرے گلے میں ڈالا ہے، ہمیشہ مجھے آدھا کرتا آیا ہے۔ یہ پٹہ جو سنبھالنا بھی مجھے ہی پڑتا ہے ۔ میں مر رہی ہوں یا جی رہی ہوں اس کی پرواہ کئے بغیر مجھے کب تک اسے ٹھیک کرنا پڑے گا؟؟؟؟

تحریر: شائستہ مومن

اپنا تبصرہ بھیجیں